17 اگست 2026 - 21:17
ایران کی فوجی حکمت عملی اور امریکی بحری بیڑے کی ناگفتہ بہ صورت حال، ایک جامع جائزہ

حالیہ دنوں میں امریکی میڈیا کو مجبوراً یہ اعتراف کرنا پڑا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن سنگین بحران کا شکار ہے۔ مہینوں تک سمندر میں مسلسل آپریشنز کے نتیجے میں عملے میں شدید جسمانی اور ذہنی تھکن پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں خودکشی کے واقعات کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ سامان رسد، خوراک اور طبی سہولیات کی شدید قلت، نیز فنی خرابیوں نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ترکیہ کے نیوز چینل "کلش رپورٹ (Clash Report)" کے مطابق، اس بحران کی جڑ ایران کے ساتھ ابتدائی مرحلے کی جھڑپوں میں پوشیدہ ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں نے بحرین میں امریکی بحری اڈے کو شدید نقصان پہنچایا، جسے پینٹاگون دہائیوں تک مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے لئے مرکزی سپلائی مرکز کے طور پر استعمال کرتا رہا تھا۔ اس اڈے کی تباہی نے امریکی بحری بیڑے کی سپلائی لائنوں کو درہم برہم کر دیا۔

بحرین کے اڈے کی تباہی کے بعد، پینٹاگون کو ایک متبادل راستہ تلاش کرنا پڑا اور اس نے بحر ہند میں واقع برطانیہ کے زیر قبضہ جزیرے ڈیگو گارسیا کو سپلائی کا نیا مرکز بنایا، جو خلیج عمان میں تعینات امریکی بحری جہازوں سے تقریباً 2200 میل دور ہے۔ اس اڈے کی طویل مسافت نے سپلائی کے عمل کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے تصدیق کی کہ بحرین کو پہنچنے والے نقصان کے فوری بعد ڈیگو گارسیا کو مرکزی سپلائی پوائنٹ بنا دیا گیا۔

اس حکمت عملی نے ڈیگو گارسیا کو ایران کا نیا ہدف بنا دیا۔ 20 مارچ 2026ع‍ کو ایران نے اس جزیرے کی طرف دو درمیانی فاصلے کے بیلسٹک میزائل فائر کئے، جسے امریکی فوج نے دھمکی کے طور پر تعبیر کیا، اور دعوی کیا کہ ان میں سے ایک میزائل سمندر میں گر گیا اور دوسرے کو ایک امریکی جنگی جہاز نے روک دیا۔ [لگتا ہے کہ وہ دو میزائل صرف امریکی دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے لئے ایک انتباہ کے طور پر داغے گئے تھے]۔

ایران کے میزائل-ڈرون حملوں کے ذریعے، بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری اڈے کے خاتمے کا سب سے بڑا نقصان یو ایس ایس ابراہام لنکن کو ہؤا ہے، جو اب تقریباً نو مہینوں سے بغیر کسی بندرگاہ پر رکے، سمندر میں بھٹک رہا ہے۔ "امن کے وقت میں چھ ماہ کی معیاری گردش کا دورانیہ" گذر چکا ہے اور عملہ نہ تو آرام کر سکا ہے اور نہ ہی جہاز کی مناسب مرمت اور دیکھ بھال ممکن ہو سکی ہے۔

امریکی سینیٹر رچرڈ بلومینتھل (Richard Blumenthal) نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو ایک خط لکھ کر خبردار کیا کہ 5000 عملے والے اس جہاز کو ضروری اشیاء کی منتقلی شدید قلت اور نفسیاتی تنزلی کا سامنا ہے۔

روایتی طور پر بحرین اور متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ 'فجیرہ' امریکی بحری جہازوں کی مرمت اور عملے کے آرام کے لئے قریبی مقامات تھے، لیکن اب یہ دونوں مقامات ایران کی میزائلوں کی زد میں ہیں، اور امریکی بحری بیڑے کے جہاز ان بندرگاہوں کی طرف آنے کی ہمت نہیں کر سکتے چنانچہ امریکی بحریہ کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

امریکی کانگریس نے طویل بحری آپریشنز کی نگرانی تیز کر دی ہے اور ان مشکل مشنوں کے تزویراتی مقصد پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے رکن مائیک لیون (Mike Levin) کا سوال ہے کہ "اصل مشن کیا ہے؟" جبکہ جہاز کے عملے کے ارکان کے اہل خانہ کو بھی جواب چاہئے۔

پینٹاگون نے جاپان میں تعینات یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو یو ایس ایس ابراہام لنکن کی جگہ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو حال ہی میں آبنائے ملاکا سے گذرا ہے، جبکہ یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش بھی علاقے میں موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران ڈیگو گارسیا کو مزید غیر محفوظ بنا کر امریکی بحری بیڑے کی سپلائی لائنوں کو مفلوج کر سکتا ہے، جو کہ ایرانی فوجی کمانڈ کی جانب سے پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہ اقدام ایران کی "اقتصادی محاصرے" کی امریکی کوششوں کو ناکام بنانے کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔

"کلش رپورٹ" کی اس رپورٹ کے آخر میں یہ نکتہ شامل کیا جا سکتا ہے کہ شاید دہشت گرد امریکی افواج کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے اور ہمارے ملک کی مسلح افواج کی "اقتصادی محاصرے" کی اسکیم کو ناکام بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں، ڈیگو گارسیا کے اڈے پر دباؤ ڈالنا اور اسے غیر محفوظ بنانا، ممکنہ طور پر امریکی دہشت گرد بحریہ کے لئے سپلائی لائنوں کو مزید مشکل بنا دے گا، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو یقیناً ایران کی مسلح افواج کی کمانڈ کی جانب سے پہلے ہی منصوبہ بندیوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha